Thursday, June 4, 2009

گوگل پیج رینک

پیج رینک ایک الگورتھم یا پروگرام ہے جسے اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں لیری پیج (Larry Page) نے تخلیق کیا (اور اسی کے نام پر اس الگورتھم کو ”پیج رینک“ کہا گیا)۔ بعد میں سرگی برن (Sergey Brin) بھی اس تحقیقی منصوبے کا حصہ بنے جو ایک نئی قسم کے سرچ انجن کے بارے میں تھا۔ یہ منصوبہ 1995ءمیں شروع ہوا اور 1998ءمیں ”گوگل“ کے نام سے پیش ہوا۔ بعد ازاں جلد ہی پیج اور برن نے گوگل انکارپوریٹیڈ کی بنیاد ڈالی۔

گوگل سرچ اس وقت تمام سرچ انجن میں سر فہرست ہے۔ مانا جاتا ہے کہ سرچنگ میں گوگل کا حصہ پچاس فیصد ہے یعنی انٹرنیٹ کی دنیا میں تلاش کیا جانے والا ہر دوسرا لفظ گوگل پر لکھا جاتا ہے۔ گوگل سرچ میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں جن میں پیج رینک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پیج رینک گوگل کا ٹریڈ مارک ہے اور اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے نام پر پیٹنٹ ہے۔


پیج رینک کیا ہے؟

پیج رینک ایک عددی قدر ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ایک ویب پیج کتنا اہم ہے۔ اگرچہ اس بارے میں حتمی اور مکمل علم گوگل تک محدود ہے لیکن عام طور سے خیال کیا جاتا ہے کہ اس عمل کے لیے گوگل الگورتھم اسکیل استعمال کرتا ہے۔ ہمیں پیج رینک کے بارے میں تو معلومات ہیں لیکن گوگل کسی ویب پیج کی اہمیت کا تعین اور اس کی مدد سے کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے، یہ گوگل کا تجارتی راز ہے جس سے کوئی واقف نہیں۔

پیج رینک صفر سے دس تک ہوتا ہے، یا یوں کہئے کہ گوگل ہرویب پیج کو ایک عددی قدر الاٹ کرتا ہے جو کہ صفر اور دس کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ عددی قدر ظاہر کرتا ہے کہ گوگل کی نظر میں اس ویب پیج کی کتنی اہمیت ہے۔ اگر کسی ویب پیج کا پیج رینک دس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ صرف یا اس پر موجود مواد بہت اہم اور مفید ہے جبکہ پیج رینک کا صفر ہونا اس کے غیر اہم اور غیر ضروری ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
گوگل ٹول بار استعمال کرنے والے قارئین نے یقینا اس کا پیج رینک فیچر ملاحظہ کیا ہوگا۔ اس فیچر کے تحت گوگل ٹول بار آپ کو ہر دیکھئے گئے ویب پیج کا پیج رینک ایک بار گراف کی شکل میں دکھاتا ہے۔ اکثر ویب پیج کا رینک دو سے چار تک ہوتا ہے جو کہ معمولی بات ہے۔ نئے ویب پیج کا پیج رینک عموماً صفر ہوتا ہے۔ بہت کم ایسی سائٹس ہوتی ہیں جن کے صفحات کا پیج رینک چھ (6) سے نو (9) تک ہو اور دس (10) پیج رینک کے حامل ویب پیجز تو بس گنتی ہی کے ہیں۔ البتہ گوگل نے تقریباً اکیس (21) ویب سائٹس کو دس پیج رینک دیا ہے جن میں ناسا، وائٹ ہاو¿س، ایپل کمپیوٹرز، دی نیو یارک ٹائمز، ایڈوبی سافٹ ویئر اور خود گوگل وغیرہ شامل ہیں۔جبکہ بہت سی مشہور ویب سائٹس ایسی بھی ہیں جن کا رینک 9 یا 8 ہے۔ مائیکروسافٹ ڈاٹ کام اور یاہو ڈاٹ کام بھی دو ایسی ہی ویب سائٹس ہیں جن کا پیج رینک 9 ہے اور سی نیٹ ڈاٹ کام جیسی وسیع اور مشہور ویب سائٹ کا پیج رینک 8 ہے۔ پیج رینک کو PR سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔

پیج رینک کس طرح کام کرتا ہے؟

جب ایک ویب پیج کو دوسرے ویب پیج سے لنک کیا جاتا ہے تو گوگل کے نزدیک یہ ایک طرح سے پہلے ویب پیج کا دوسرے ویب پیج کی افادیت اور اہمیت کے لئے ”ووٹ کاسٹ“ ہوتا ہے۔ ایک ویب پیج کے لیے جتنے ووٹ کاسٹ ہوں گے، اس کا پیج رینک اتنا ہی بڑھے گا۔ مزید گوگل کے نزدیک اس بات کی اہمیت بھی ہوتی ہے کہ جو صفحہ کسی دوسرے صفحہ کے لیے ووٹ کاسٹ کررہا ہے، خود اس کی اہمیت کیا ہے؟ آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ جب آپ کسی ویب پیج کا لنک دیتے ہیں تو عین اسی وقت آپ گوگل سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کو اس صفحے پر بھروسا ہے یا آپ سمجھتے ہیں کہ اس پر اہم/ دلچسپ/ مفید مواد موجود ہے۔ بصورتِ دیگر آپ اسے لنک نہیں کرتے یعنی کہ آپ اس صفحے کو ووٹ دے رہے ہیں۔ لہٰذا لوگوں کی کثیر تعداد کا آپ کی ویب سائٹ کو لنک کرنا (ووٹ دینا) آپ کے لیے زیادہ پیج رینک کے حصول کا سبب بنے گا۔
اس مثال کو اگر حقیقی زندگی میں ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ فرض کریں امجد صاحب محلے کی ہر دل عزیز اور معتبر شخصیت ہیں اور تقریباً سارا محلہ ہی ان سے واقف ہے۔ لیکن خورشید صاحب محلے کی گم نام شخصیت ہیں اور چند ہی لوگ ان سے واقف ہیں۔ اگر آپ کے سامنے امجد صاحب کسی انجان شخص کی تعریف کریں تو آپ امجد صاحب کی بات پر فوراً یقین کرتے ہوئے اس انجان شخص کے اہمیت کے قائل ہوجائیں گے۔ لیکن اگر اسی شخص کی تعریف خورشید صاحب کرتے تو شاید آپ کو ان کی بات کا یقین نہ آتا۔
دوسرے الفاظ میں اسے یوں سمجھیں کہ امجد صاحب کا پیج رینک اپنے قابل بھروسا اور مشہور ہونے کی وجہ سے زیادہ ہے۔ اگر وہ کسی شخص کی تعریف کرتے ہیں تو اپنے پیج رینک کی وجہ سے یہ اس شخص کے پیج رینک میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں خورشید صاحب گم نام ہونے کی وجہ سے کم پیج رینک رکھتے ہیں لہٰذا ان کا تعریف کردہ شخص بھی کم پیج رینک کا حامل ہوگا۔
بالکل یہی عمل گوگل پیج رینک کے ساتھ ہے۔ اگر آپ کو ایک ایسی ویب سائٹ/ ویب پیج لنک کرے جس کا پیج رینک دس (10) ہو تو یہ آپ پر گوگل کے اعتماد میں اضافہ کا سبب ہوگا، مقابلے میں اس کے کہ ایسی سو (100) ویب سائٹس آپ کو لنک کریں جن کا اپنا پیج رینک صفر یا ایک/ دو ہو۔
آپ انٹرنیٹ کی ایک چھوٹی سی دنیا فرض کیجئے جو کہ صرف چار ویب پیج ”الف“، ”ب“، ”ج“ اور ”د“ پر مشتمل ہے اور صفحہ ”الف“ کو صفحات ”ب“، ”ج“ اور ”د“ لنک کرتے ہیں۔ یوں صفحہ ”الف“ کے پیج رینک کی صورتحال یہ ہوگی:
PR (الف) = PR (ب) + PR (ج) + PR (د)
کیا آپ اسے بہت آسان خیال کرتے ہیں؟ نہیں! یہ اتنا آسان نہیں، کچھ حد تک پیچیدہ ہے۔ جیسے میں نے پہلے ذکر کیا کہ اگر صفحہ ”الف“ کو صفحہ ”ب“لنک کررہا ہے تو یہ صفحہ ”الف“ کے پیج رینک کے لیے ایک طرح کا ووٹ کاسٹ کر رہا ہے لیکن دوسری طرف گوگل اس بات کو بھی مدنظر رکھتا ہے کہ خود صفحہ ”ب“ یعنی ووٹ کاسٹ کرنے والے صفحے کا اپنا پیج رینک کیا ہے؟
دو اہم باتیں:
یہاں دو باتوں کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ پہلی بات، شاید یہ سوال سر اُٹھائے کہ اگر صفحہ ”الف“ کو صفحہ ”ب“ بذریعہ لنک ووٹ کرتا ہے تو کیا صفحہ ”ب“ کے اپنے پیج رینک پر کوئی اثر پڑے گا؟ کیا وہ اپنا پیج رینک کھودے گا؟ نہیں! ایسا نہیں ہوتا۔ یہ صرف ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل ہے۔ یہ عمل پیج رینک کو ٹرانسفر نہیں کرتا۔ ہاں البتہ کچھ دوسرے عوامل ضرور ہوتے ہیں جن کے باعث ویب پیج اپنا پیج رینک کھودیتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے اپنی ویب کا ڈھانچہ صحیح رکھا ہے تو ایسا نہیں ہوگا۔ اس بارے میں مزید نکات آگے آئیں گے۔
دوسری بات یہ کہ یقینا ایک اچھے پیج رینک کا حامل ویب پیج آپ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھے گا اگر اس میں آپ کی مطلوبہ تلاش موجود نہ ہو۔ لہٰذا گوگل نے پیج رینک اور ٹیکسٹ میچنگ ٹیکنالوجی کو یکجا کردیا ہے۔ یوں آپ اگر کچھ تلاش کرتے ہیں تو گوگل ٹیکسٹ میچ اور پیج رینک، دونوں کے مشترک عمل سے تلاش کے بعد نتائج دیتا ہے ۔ اور یہی گوگل کی کامیابی کا راز ہے۔ گوگل کے دیکھا دیکھی اب دیگر سرچ انجنز بھی ان ٹیکنالوجیز سے ملتی جلتی ٹیکنالوجیز کو استعمال کررہے ہیں۔

اچھا پیج رینک کیا ہے؟

زیادہ اچھا پیج رینک حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ ابتداءمیں آپ کے بنائے ہوئے ویب پیج کا پیج رینک صفر ہوتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے پھیلاﺅ اور شہرت کی وجہ سے بڑھتا ہے۔ پیج رینک ایک (1) یا دو (2) ہونا معمول کی بات ہے اور ویب پیج بنانے کے کچھ عرصے بعد اگر آپ نے اسے کچھ ویب سائٹ پر مشتہر کیا ہے تو ایک یا دو پیج رینک حاصل ہوہی جاتاہے۔ عموماً ہوم پیج (فرنٹ پیج/ انڈیکس پیج) کا پیج رینک تین (3) ہوتا ہے۔ اگر آپ کا پیج رینک چار ہے تو یہ اچھا ہے اور اگر پانچ ہے تو واقعی اچھا ہے۔ اگر آپ کا پیج رینک پانچ سے بڑھ کر ہے تو یقین کیجئے، آپ اچھا جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر foxnews.com کا پیج رینک سات (7) ہے۔پاکستان کی مشہور ترین ویب سائٹس کا پیج رینک بھی زیادہ سے زیادہ 5دیکھنے میں آیا ہے۔
اچھا پیج رینک کیسے؟

گوگل سے باہر کا کوئی شخص نہیں جانتا کہ پیج رینک کا اصل اسکیل کیا ہے تاہم کئی تحقیقی مقالات میں مختلف دلائل اور شواہد کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ الگورتھم اسکیل ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پیج رینک کا لیول بڑھانے کے لیے ہمیں کئی ووٹ درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ ویب ماسٹر کے لیے اپنے ویب اسٹرکچر کی بنیاد ٹھیک رکھنا بھی اہم ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ووٹ پوری ویب سائٹ کے لیے کاسٹ نہیں ہوتا بلکہ ایک خاص ویب پیج کے لیے کاسٹ ہوتا ہے(یعنی جس پیج سے لنک کیا جاتا ہے، ووٹ صرف اسی پیج کے لیے ہوتا ہے)۔ اگر ہم اپنی حقیقی زندگی والی مثال پر واپس آئیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اگر امجد صاحب نے کسی انجان شخص کی تعریف کی ہے تو یہ صرف اس شخص کے مخصوص ہے۔ ہوسکتا ہے اس شخص کا بھائی کوئی غنڈہ ہو۔
لہٰذا اگر ویب ماسٹر اپنا ویب اسٹرکچر اس طرح رکھے کہ زیادہ سے زیادہ لنک اس کے کسی ایک خاص صفحے (عام طور سے ہوم پیج) کے لیے ہوں تو پیج رینک بڑھانے میں مدد ملے گی۔ لیکن ایسا کیسے ہوگا؟
اچھی بنیاد پر کھڑی مستند ویب سائٹس کو دیکھیں تو ان کا پہلا صفحہ (انڈیکس پیج) زیادہ پیج رینک رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ صفحہ سب سے زیادہ لنک کیا جاتا ہے اور اگر کوئی اس سائٹ کا لنک دیتا ہے تو وہ لنک عموماً اسی انڈیکس پیج (index.html، index.htm، index.php وغیرہ) کا ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ہم ایسا کس طرح کرسکتے ہیں؟
فرض کیجئے کہ آپ کی ویب سائٹ کے تین مدارج ہیں۔ پہلے درجے پر انڈیکس/ فرنٹ پیج ہے۔ اگلے درجے پر تعارف، ہمارے بارے میں، رابطہ، خبریں، اعلانات، مصنوعات وغیرہ کے صفحات ہیں۔ تیسرے اور آخری درجے پر تفصیلی صفحات ہیں۔ ایک اچھے اور بہترین ویب ڈھانچے میں انڈیکس پیج کا تمام بنیادی منیو پیجز سے لنک ہوتا ہے اور پھر وہ منیو پیجز مزید تفصیلی صفحات سے منسلک ہوتے ہیں۔ یوں پہلا صفحہ چھ سے سات تک کا پیج رینک رکھتا ہے، دوسرے درجے کے صفحے چار سے پانچ اور تیسرے درجے کے صفحات دو یا تین پیج رینک رکھتے ہیں۔ یہ ایک اچھی ویب سائٹ کی علامت ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل نکات کا خیال رکھنا بہتر ہوگا:

یقین کرلیں کہ آپ کا بنیادی صفحہ (انڈیکس پیج) آپ کے ثانوی درجے کے صفحات سے لنک ہے۔
یہ بھی یقین کرلیں کہ تمام ثانوی صفحات آپس میں ایک دوسرے سے لنک ہیں۔
ثانوی درجے کے صفحات کو تیسرے درجے کے صفحات سے لنک کردیں۔
تیسرے درجے کے صفحات کو واپس ان ہی ثانوی درجے کے صفحات سے لنک کردیں۔
اس امر کو یقینی بنالیں کہ تیسرے درجے کے صفحات کا آپس میں زیادہ لنک نہ ہو۔
اگر مزید چوتھے درجے کے صفحات بھی ہوں تو ان کے لیے بھی ان ہی اصولوں پر عمل کریں گے۔
“rel=nofollow” کے فوائد:

اپنے ویب پیج کے پیج رینک میں اضافے کے لیے لوگوں نے غلط طریقوں کا استعمال شروع کردیا اور مختلف میسج بورڈز/ فورمز پر پوسٹس میں یا بلاگز پر تبصروں کی صورت میں اپنے ویب پیج کا لنک دینا شروع کردیا اور اسپیم بڑھنے لگے۔ یہ ایک سردرد اور مصیبت کا سبب بنا۔
2005ءکے اوائل میں گوگل نے ایچ ٹی ایم ایل لنکس کے rel ایٹری بیوٹ کے لیے ایک نئی ویلیو ‘nofollow’ متعارف کرائی۔ اس کی مدد سے بلاگرز اور میسج بورڈز/ فورمز کے ایڈمنسٹریٹرز لنکس کو گوگل کے پیج رینک کے لیے غیرفعال کرسکتے ہیں یعنی جس لنک پر rel=”nofollow” کا ایٹری بیوٹ سیٹ ہوگا، گوگل اسے پیج رینک کے لیے نہیں لے گا اور وہ لنک یا ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے۔ یوں ایڈمنسٹریٹرز ایک کوڈ جنریٹ کرسکتے ہیں جو ہر ہائپرلنک پر ‘nofollow’ کی ویلیو اپلائی کردے گا اور اسپیمر اپنے مقاصد میں ناکام ہوں گے۔

گوگل بومب

گوگل پیج رینک کا ذکر چل رہا ہے تو سوچا آپ کو گوگل کی اس کامیابی کے ساتھ تفریح کرنے والے کے بارے میں بھی کچھ معلومات فراہم کی جائے۔ اب تک آپ یہ بات ہضم کرچکے ہیں کہ کسی ”کی ورڈ“ کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے نتائج میں سب سے اوپر وہی ویب پیج ظاہر ہوتا ہے جس کا پیج رینک سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
گوگل بومبنگ میں کسی مخصوص ویب پیج کو ایک خاص کی ورڈ جو کہ اس ویب پیج سے مطابقت بھی نہیں رکھتا، کے حوالے سے اتنی بار مختلف جگہوں پر لنک کیا جاتا ہے کہ اس کا پیج رینک خود بخود بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح جب بھی وہ کی ورڈ گوگل میں تلاش کی جاتا ہے تو وہ ویب پیج سب سے اوپر ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح کی حرکات کا مقصد سیاسی یا صرف تفریح ہوتاہے۔
پہلا گوگل بومب جسے عوامی شہرت حاصل ہوئی وہ مائیکروسافٹ کے متعلق تھا۔ اس عرصے میں جب گوگل پر more evil than Satan himself کے کی ورڈ سے سرچنگ کی جاتی تھی تو جواب میں سب سے پہلا لنک مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ ظاہر ہوتا تھا۔ اس طرح سال پہلے یعنی 29ستمبر 2006ءکو جب گوگل پر miserable failure یا صرف Failureلکھ کر سرچ کیا جاتا تھا تو سب سے اوپر امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی بائیوگرافی کا لنک ظاہر ہوتا تھا۔ اس طرح کے گوگل بومب آئے دن ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ ان سے بچاو¿ کے لئے گوگل نے کئی اقدامات کئے ہیں لیکن اپنے سرچ الگورتھم کی خوبی ہی میں موجود خامی سے مکمل چھٹکارا پانا فی الحال ممکن نہیں۔

اختتامی نکات:

پیج رینک شمار کرنے کا عمل تقریباً مہینے میں ایک بار ہوتا ہے۔
پیج رینک پوری ویب سائٹ کا نہیں بلکہ ہر ویب کا اپنا انفرادی پیج رینک ہوتا ہے۔
پیج رینک جاننے کے لیے کئی ٹول بار موجود ہیں۔لیکن ان کا استعمال گوگل کی نظر میں ممنوع ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے گوگل کہتا ہے کہ گوگل کے سرورز کی کمپیوٹنگ پاور صرف اس کی پراپرٹی ہے جس کے استعمال کا حق صرف گوگل کے پاس ہے۔ تھرڈ پارٹی ٹولز جو پیج رینک جاننے کے لئے استعمال ہوتے ہیں، گوگل کے سرورز کو مختلف مقامات سے نتائج کے لئے Query کرتے ہیں۔ اس دوران کمپیوٹنگ پاور کا ایک بڑا حصہ اس غیر اہم مقصد کے لئے صرف ہوتا ہے۔ لہٰذا گوگل کے مطابق یہ ٹول گوگل کی کمپیوٹنگ پاور پر ڈاکے مارتے ہیں۔
کسی ویب پیج کا اصل پیج رینک صرف گوگل جانتا ہے۔ عام طور سے نظر آنے والے پیج رینک کو 100 فیصد درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔اس میں فرق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا، گوگل کا نظام بہت پیچیدہ ہے۔ اس نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے دھوکا دینا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اس نظام کی حقیقت ہم سے پوشیدہ ہے۔ لہٰذا عام طور پر ظاہر ہونا والا پیج رینک ہمارے لئے قابل بھروسہ نہیں ہوسکتا۔
اس کی ایک مثال مائیکروسافٹ اور ایڈوبی کی ویب سائٹ کی ہے۔ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ایڈوبی کی ویب سائٹ کا پیج رینک دس اور مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ پیج رینک 9ہے۔ جبکہ یہ بات ہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں کہ ایڈوبی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تعداد میں مائیکروسافٹ کے ویب پیجز کے لنکس دنیا بھر میں اربوں ویب پیجز پر موجود ہیں۔ جبکہ مائیکروسافٹ کی شہرت ایڈوبی سے زیادہ بھی ہے۔
تجارتی مقاصد کی وجہ سے گوگل تین سے چار ماہ پرانا پیج رینک ظاہر کرتا ہے (اسی لیے اگر آپ کی ویب سائٹ نئی ہے تو اس کا پیج رینک اگلے کئی ماہ تک صفر رہ سکتا ہے)۔
پیج رینک میں ترقی اور تنزلی میں دیگر کئی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ان عوامل کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔
یہ تھا پیج رینک کا مختصر سا جائزہ۔ یہ نہ تو بہت زیادہ مشکل ہے اور نہ ہی کچھ آسان۔ اگر اس بارے میں تحقیق کی جائے تو مزید کئی صفحات بھر جائیں، کئی پیچیدہ ریاضیاتی مساوات ہیں جو پیج رینک کا عمل سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں لیکن میرے نزدیک ابتدائی اور بنیادی تعارف کے طور پر یہ نکات کافی ہیں۔



courtesy:

ماہنامہ کمپیوٹنگاردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا واحد مستند جرید

حجاموں کو کام مل گیا

ذیشان طفر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، رنگمالا ، مالاکنڈ ٹاپ

صوبہ سرحد کے ضلع سوات سے نقل مکانی والے لاکھوں افراد اپنے علاقے سے دور مختلف کیمپوں میں بغیر کسی روز گار کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تاہم ان کیمپوں میں آنے والے کچھ لوگوں کو آزادی سے اپنا روزگار شروع کرنے کا موقع بھی ملا ہے اس لیے وہ دوسرے لوگوں کے برعکس قدرے مطمئن بھی دکھائی دیتے ہیں۔

یہ لوگ حجام ہیں جنہوں نے طالبان کی دھمکیوں کے بعد سوات میں لوگوں کی داڑھیاں مونڈنا( شیو) بند کر دیا تھا۔

مالاکنڈ ٹاپ کے علاقے رنگمالا میں سوات کے متاثرین کے لیے امدادی کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں سوات کے صدر مقام مینگورہ سے آئے ہوئے تقریباً سات کے قریب حجام بھی رہائش پذیر ہیں۔ان کو گھر سے دوری کا دکھ تو ہے لیکن یہاں انہیں اپنا کام آزادی سے کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔

ان میں شوکت علی بھی ہیں جو سوات کے صدر مقام مینگورہ سے نقل مکانی کر کے کیمپ پہنچے ہیں جہاں انہوں نے اتوار کو تقریباً آٹھ ماہ کے بعد پہلی بار تین لوگوں کی شیو کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سوات میں ایک سو سے زائد حجام کی دوکانیں تھیں جنہیں مقامی طالبان کی جانب سے ہدایت ملی تھیں کہ کسی کی داڈھی مونڈنا غیر شرعی ہے اس لیے آپ لوگ فوری طور پر یہ کام بند کر دیں ۔ جس کے بعد خوف کی وجہ سے حجاموں نے لوگوں کی شیو کرنا بند کر دی تھی اور صرف بال تراشنے کا کام کرتے تھے۔


انھوں نے کہا کہ تقریباً آٹھ ماہ کے بعد انہیں شیو بنانے پر خوشی ہوئی ہے اور کیمپ میں رہائش پذیر دوسرے لوگوں کے برعکس انہیں کچھ نہ کچھ آمدن بھی ہو جاتی ہے۔

ایک دوسرے حجام فرمان علی کی مینگورہ میں اپنی دوکان تھی لیکن اب وہ رنگملا کیمپ کے باہر کھلی جگہ پر بال تراشنے اور شیو بنانے کا کام کرتے ہیں تاہم وہ بغیر دوکان کے کام کرنے پر بھی خوش نظر آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سوات میں طالبان کی جانب سے شیو بنوانے پر پابندی سے پہلے وہ روزانہ پندرہ سے بیس شیو روزانہ کرتے تھے لیکن اچانک طالبان کی طرف سے پابندی لگانے کے بعد ان کا کام کافی متاثر ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے شیو بنانے والے حجام کو دھمکی دی جاتی تھی کہ اس کی دوکان یا گھر کو تباہ کر دیا جائے۔

فرمان علی نے کہا کہ نے کہا کہ کیمپ میں وہ روزانہ صرف شیو بنانے سے پچاس سے سو روپے کما لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوات سے تقریباً تمام ہیئر ڈریسر نقل مکانی کر چکے ہیں اور اب وہ مختلف کیمپوں میں مکمل آزادی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ کیمپ میں اگرچہ وہ کافی عرصے کے بعد آزادی سے اپنا کام کر رہے ہیں لیکن انہیں اس دن کے انتظار ہے جب وہ واپس اپنے شہر جا کر مکمل آزادی اور خوف کے بغیر اپنا کام کر سکیں گے۔

سوات کے شہر مینگورہ سے تعلق رکھنے والے اکبر شیو بنوا رہے تھے انہوں نے بتایا کہ ایک سال کے بعد وہ حجام سے شیو بنوا رہے ہیں کیونکہ مینگورہ میں طالبان کے خوف سے کوئی حجام شیو نہیں بناتا تھا۔ اور لوگ بھی حجام کی دوکانوں میں جانے سے اجتناب کرتے تھے۔ لیکن ایک روز پہلے وہ سوات سے نقل مکانی کر کے کیمپ میں پہنچے ہیں اور آج ایک سال کے بعد انہوں نے حجام سے داڑھی منڈوائی ہےاور انہیں اچھا لگ رہا ہے کیونکہ گھر میں شیو بنانا مشکل لگتا تھا۔

واضع رہے کہ سوات میں طالبان میں جہاں لڑکیوں کے سکول جانے ، موسیقی سننے لگا رکھی تھی وہیں داڑھی مونڈوانے پر پابندی تھی۔لیکن مبصرین کے مطابق حالیہ فوجی آپریشن اس صورت میں کامیاب ہو گا جب لوگوں اپنے علاقوں میں واپس جا کر مکمل آزادی اور بغیر خوف کے اپنا اپنا روز گار شروع کر سکیں گے۔

آج سگریٹ نہ پیئیں: اقوام متحدہ

ارمان صابر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں تمباکو نوشی کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ آج یعنی اتوار کے دن سگریٹ نہ پیئیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق 2020 تک تمباکو نوشی ہلاکتوں اور معذوری کی سب سے بڑی وجہ بن جائے گی۔ اتوار کو ’تمباکو نوشی ترک کرنے کا عالمی دن‘ منایا جارہا ہے جس کا مقصد تمباکو نوشی کے مضر اثرات پر روشنی ڈالنا ہے۔

پاکستان میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو استعمال کرنے کے رجحان میں کمی جبکہ تیسری دنیا کے ممالک میں اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔چین میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد امریکہ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے اور اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ پاکستان اینٹی سموکنگ سوسائٹی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اکتیس کمپنیوں کے پاس سگریٹ بنانے کے اڑتیس کارخانے موجود ہیں اور سگریٹ کی فروخت کی مد میں حکومت ٹیکسوں کے ذریعے تقریباً چَالیس اَرب روپے سالانہ وصول کرتی ہے۔

پاکستان میں تمباکو کا استعمال سگریٹ، پان، اور دیگر طریقوں سے کیا جاتا ہے جبکہ ملک میں تمباکو کی سالانہ فروخت ایک لاکھ ٹن ہے۔

ماہرِامراض سینہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان نیشنل الائنس فار ٹوبیکو کنٹرول آف پاکستان کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ مغربی ممالک میں تمباکو کے استعمال پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جن پر سختی سے عملدرآمد بھی کیا جارہا ہے اور یہ اقدامات وہاں تمباکو کے استعمال کے رجحان میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق مغربی دنیا میں پابندیوں کے باعث سگریٹ بنانے والی کمپنیاں پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں اپنی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کررہی ہیں، اور یہاں پر مناسب قانون بھی نہیں ہے اور اگر ہے تو ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا، پھر یہاں ناخواندگی زیادہ ہے اور تمباکو کے نقصانات کے بارے میں لاعلمی زیادہ ہے، لہذٰا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لیے یہاں اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ماحول سازگار ہے اور نوجوان اس لت میں گرفتار ہورہے ہیں۔

ان کے بقول اس وقت ملک میں بتیس فیصد نوجوان اور آٹھ فیصد خواتین سگریٹ پیتی ہیں لیکن اگر اس میں پان، چھالیہ، گٹکا، نسوار، شیشہ اور دیگر اقسام کو شامل کرلیا جائے تو ملک کے چوّن فیصد عوام تمباکو کے نشے میں گرفتار ہیں۔


پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے نائب چئرمین اور جناح ہسپتال کراچی میں چیسٹ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی کہتے ہیں کہ پچیس سے زیادہ مہلک بیماریاں تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہیں۔ ان کے بقول نوے فیصد پھیپھڑے کے سرطان تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں، اسی طرح دمہ اور سینے کے انفیکشن کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ان کے بقول ایسے لوگ جو دن میں پچیس سے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں، ان کو دل کا دورہ پہلے گھنٹے میں ہی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ سگریٹ نوشی دماغ کی شریانوں میں خون کی گردش رکنے کا سبب بھی بن سکتی ہے جس سے فالج ہوسکتا ہے، اسی طرح اور بھی کئی بیماریاں ہیں جو تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہیں۔

ماہرِ امراض سینہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے واضح گائڈ لائن دے دیں ہیں کہ کس طرح تمباکو کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکا جاسکتا ہے۔

ان کے بقول سب سے پہلے تو تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کرنا پڑے گا، کیونکہ ملک میں سگریٹ اتنی سستی ہے کہ سات روپے میں دس سگریٹیں مل جاتی ہیں، دوسرے یہ کہ تمام پبلک مقامات کو اسموک فری یعنی تمباکو نوشی سے پاک ہونا چاہیے جو یہاں پر نہیں ہے، اور تیسری اہم بات جو حکومت کے کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری ہیلتھ وارننگ ہونی چاہیے جو کہ ابھی صرف لکھنے کی حد تک محدود ہے۔

ان کے بقول مغربی ممالک میں تصویر کے ذریعے بتایا جارہا ہے کہ تمباکو نوشی کتنی خطرناک چیز ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک نے بھی اس پر عملدرآمد شروع کردیا ہے جبکہ ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔

Tuesday, June 2, 2009

شمالی کوریا کا جوہری تجربہ اور مغرب (Weekly Humshehri)


ڈاکٹر مجاہد مرزا
روس اور یورپی اتحاد کی مشترکہ سمٹ روس کے مشرق بعید میں سائبیریا کے دوسرے بڑے شہر خبارووسک (Khabarovsk) میں منعقد کرنے کا مقصد بتاتے ہوئے صدر روس دمتری مدویدیو نے بتایا تھا کہ اس نوعیت کی گذشتہ سمٹ کوہِ یورال کے ایک شہر خانتی مانسک (Khantimansinsk) میں ہوئی تھی تو یورپ کے تمام سربراہ کراہ رہے تھے کہ ”اف“ کس قدر دور ہے۔ ماسکو سے ساڑھے پانچ گھنٹے کا مزید ہوائی سفر کرنا پڑا ”مذاق میں کہا گیا کہ آئندہ یہ فورم کسی اور شہر میں منعقد نہ کر لیا جائے، سب نے ہنسی خوشی اتفاق کر لیا تو ہم (روسیوں) نے یہ سوچا کہ یورپی سربراہوں کو دکھایا جائے کہ اگرچہ یورپ کی جغرافیائی سرحدیں تو کوہِ یورال تک ہیں لیکن اس کی سیاسی سرحد بہت ہی دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ یوں خبارووسک یورپ کے سربراہان کا عارضی مسکن بنا جو ریل کے راستے ماسکو سے 8523 کلومیٹر دور ہے، بذریہ طیارہ بھی ماسکو سے نیو یارک کے سفر کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے اور ماسکو اور خبارووسک کے وقت میں آٹھ گھنٹوں کا فرق ہے، اتنا ہی جتنا ماسکو اور نیو یارک کے وقت میں البتہ نیو یارک کے لیے ماسکو کے وقت میں سے آٹھ گھنٹوں کو منہا کرنا ہوتا ہے، اس کے برعکس خبارووسک کے لیے ماسکو کے وقت میں آٹھ گھنٹوں کا اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ سمٹ میں روس اور یورپی اتحاد کے موقف متضاد رہے لیکن پھر بھی بحث سفارتی زبان میں تعمیری رہی کیونکہ وہ ساری بات ہی توانائی کے وسائل بالخصوص گیس کی فراہمی سے متعلق موجود میثاق توانائی کے بارے میں تھی جس میں روس نہ صرف شریک نہیں ہے بلکہ اس میثاق کو ازکاررفتہ اور غیر موثر سمجھتا ہے۔ دمتری مدویدیو نے اس سلسلے میں ایک نیا بین الاقوامی میکانزم وضع کرنے کی تجویز دی ہے جو توانائی کے وسائل پیدا کرنے والے، انہیں استعمال کرنے والے اور ترسیل کے لیے گزر گاہ فراہم کرنے والے ممالک سبھی کے مفادات کا یکساں طور پر تحفظ کر سکے۔

22 مئی کو خبارووسک میں یہ سمٹ تمام ہوئی۔ 23 اور 24 ہفتہ اور اتوار روس سمیت تمام یورپ میں تعطیل کے ایام ہوتے ہیں۔ 25 مئی کو علی الصبح خبارووسک کے زلزلہ پیما مرکز میں زیر زمین جھٹکے ریکارڈ کیے گئے جن کا مقام وقوعہ روس کی عوامی جمہوریہ کوریا یعنی شمالی کوریا کے ساتھ سرحد سے محض 130 کلومیٹر کی دوری پر شمالی کوریا کی سرزمین پر ایسا مقام تھا جہاں اس ملک کا عسکری ٹھکانہ ہے اور دن چڑھتے ہی شمالی کوریا نے اعلان کر دیا کہ اس نے زیر زمین جوہری تجربہ کیا ہے۔ ہلچل مچ گئی اور حسب معمول بڑے بڑے جوہری وار ہیڈز کے مالک ممالک اور ان کے حواریوں کو شدید تشویش لاحق ہو گئی۔

جزیرہ نما کوریا کا بالائی حصہ جو شمالی کوریا کے نام سے موسوم ہے کی زیادہ سرحد عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ منسک ہے مگر ایک چھوٹی سی پٹی خبارووسک سے چند سو کلو میٹر کی دوری پر روس کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ ریل گاڑی کے ذریعے اسی سرحد سے گزر کر شمالی کوریا کے سربراہ کم اِل جُنگ دو چار بار روس بھی آ چکے ہیں کیونکہ موصوف ہوائی سفر سے نفسیاتی طور پر خائف ہیں۔ کوریا 1945 ءسے دو حصوں میں تب سے منقسم ہے جب سے اسے ہار جانے والے جاپان کے قبضے سے دوسری جنگ عظیم میں آزاد کرایا گیا تھا۔ پھر کوریا کی جنگ شروع ہوئی جس میں ہاتھ رنگ کر پاکستان کے بھی چند گھرانے بے حد امیر ہوئے تھے۔ 25 جون 1950ءکو شروع ہونے والی اس جنگ کو 27 جولائی 1953ءمیں فائر بندی کے ایک معاہدے کے تحت روکا گیا تھا مگر ان منقسم خطوں میں مخاصمت کبھی ختم نہیں ہوئی۔ جنگ عظیم کے بعد جاپان امریکہ کے قبضے میں تھا اور سمندر کے راستے کم اِل سنگ کے حامیوں کی مخالفت میں لڑنے والوں کو امریکہ اور اس کے حواریوں سے امداد ملتی رہتی تھی۔ کم ال سنگ کی مدد چین کرتا اور کسی حد تک سوویت یونین نے بھی کی تھی۔ کم ال سنگ ایک عرصہ چین میں رہے تھے اور یوں ان کا سوویت یونین پر اعتماد متزلزل رہا تھا لیکن بہر حال سوویت یونین بھی چین کی طرح ایک سوشلسٹ ملک تھا اس لیے شمالی کوریا کو سرد جنگ کے ادوار میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جاپان اور جنوبی کوریا سے خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا، یہ دونوں ممالک اس کے ہمسایہ ممالک ہیں۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ واحد عسکری طاقت بن گیا تھا، جرمنی کو متحد کیے جانے سے شمالی کوریا کو بھی خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ کہیں انہیں بھی زبردستی متحد نہ کر دیا جائے۔ شمالی کوریا کی فوج بہت منظم اور جری ہے مگر امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر اس کی زمینی سرحد کے عین نزدیک اور جاپان کے ساتھ مل کر اس کی سمندری سرحدوں کے ساتھ فوجی مشقیں سرانجام دیتا رہتا ہے۔ 2009ءکے نیو یارک ٹوِن ٹاورز کے سانحے کے بعد بش صاحب نے ایران اور لیبیا کے ساتھ شمالی کوریا کو بھی ”بدی کے محور“ میں شامل کر دیا۔

ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی خاطر عراق اور افغانستان میں فوجیں اتار دیں، مگر ایران نہ صرف تیل پیدا کرنے اور بیچنے والا بڑا ملک ہے بلکہ اس کے جغرافیائی سیاسی حالات شمالی کوریا کی نسبت بالکل ہی مختلف ہیں۔ پھر بھی مغرب نے ان دونوں ممالک کے جوہری مسئلے کو ایک ہوا بنا دیا۔ ایران پر عائد کردہ پابندیوں کا اثر اس لیے بھی کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے تیل کے وسائل کو کام میں لاتا ہے، دوسرے وہ عراق اور لبنان میں اپنے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باعث امریکہ کو زچ کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ روس کے معاشی مفادات بھی ایران سے بندھے ہوئے ہیں اس لیے ایران کو روس کا سہارا کسی نہ کسی شکل میں مل ہی جاتا ہے۔ شمالی کوریا میں قطعی مطلق العنان حکومت ہے۔ فوج کو چاق و چوبند رکھنے اور اپنے نظام کے گن گانے کے پروپیگنڈے کے اخراجات کے باعث باقی عوام کے لیے روٹی بھی کم پڑ جاتی ہے، شمالی کوریا نے جھوٹ سچ اپنے جوہری مسئلے کو خود بھی بہت ہوا دی کیونکہ اس طرح وہ مغرب سے ’ڈیل‘ کرنا چاہتا تھا۔ چھ ممالک پر مشتمل مذاکرات کی داغ بیل ڈالی گئی جن میں شمالی اور جنوبی کوریا کے علاوہ جاپان، امریکہ ، روس اور چین شامل تھے۔ اس سے پہلے 9 اکتوبر 2006 ءکو شمالی کوریا نے اعلان کر دیا تھا کہ اس نے اپنا پہلا جوہری تجربہ کر لیا ہے۔ جاپان کے زلزلہ پیما مراکز نے ریکٹر سکیل پر 4.2 درجے کا جھٹکا ریکارڈ کیا تھا مگر بعد میں ماہرین کے مطابق یہ دھماکہ حقیقی جوہری بم کی خاطر کیے جانے والے دھماکے کی طرح کا ثابت نہیں ہوا تھا۔ شش فریقی مذاکرات میں بڑی مشکل سے طے ہوا کہ شمالی کوریا اپنا یون بین (Yun bin) کا جوہری ٹھکانہ تلف کر دے گا، اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا جس کے عوض امریکہ، یورپی ممالک، چین اور روس اسے خام تیل کے علاوہ دیگر معاشی رعایات دیں گے اور بجلی بنانے کے لیے لائٹ واٹر ری ایکٹرز بھی فراہم کریں گے۔ روس اور چین نے اپنی ذمہ دارایاں نبھائیں۔ شمالی کوریا نے بھی اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے کام شروع کر دیا مگر امریکہ اور یورپ اپنا وعدہ وفا نہ کرنے پر تلے رہے۔

کچھ عرصہ قبل شمالی کوریا نے دعویٰ کیا کہ اس نے خلا میں سیارہ پہنچائے جانے کی خاطر راکٹ چھوڑا ہے، بس پھر کیا تھا واویلا مچ گیا کہ سیارچے کی آڑ میں شمالی کوریا بین البراعظمی راکٹ چھوڑے جانے کا تجربہ کر رہا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث مغرب نے شمالی کوریا پر پابندی عاید کیے جانے کی بات کی اور شمالی کوریا نے احتجاجاً شش فریقی مذاکرات میں عدم شرکت کا اعلان کر دیا۔ گذشتہ ماہ اپریل میں افواہیں گرم ہو گئیں کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیار بنانے کا مکمل طور پر اہل ہو چکا ہے جس کی تائید میں عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی کے سربراہ محمد البرادی نے بھی بیان دیا۔ بالآخر 25 مئی کو شمالی کوریا نے تجربہ کر ڈالا۔

تصدیق تو ہوتی رہے گی کہ یہ واقعی درست تجربہ تھا یا نہیں لیکن دیکھنا یہ چاہیے کہ امریکہ اور روس 1991ءمیں کیے گئے سٹارٹ ون نامی معاہدے کے تحت اب تک اپنے جوہری وارہیڈز کی تعداد کو دس ہزار فی ملک سے گھٹا کر چھ ہزار فی ملک کر سکتے ہیں مگر خوف میں مبتلا ممالک کے جوہری تجربے پر ایسے بدکتے ہیں جیسے ان پر جوہری وار کر دیا گیا ہو۔ کوئی بھی صحیح العقل شخص جوہری ہتھیار بنائے جانے کے حق میں نہیں ہو سکتا مگر کمزور ممالک کو یا تو اس قدر معاشی امداد دی جائے کہ ان کا انفراسٹرکچر صحیح ہو اور لوگ خوشحال ہو کر درست قیادت کو سامنے لائیں یا پھر جوہری ہتھیاروں کے مالک بڑے ممالک کو اپنے اس نوع کے ہتھیاروں کو انتہائی کم کرنا ہو گا۔ پاکستان، جس کے پاس ایسے وار ہیڈز کی تعداد پچاس کے نزدیک ہے، اس کے عدم استحکام اور جوہری وار ہیڈز دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جانے کے خدشے کا اس قدر شور مچایا جاتا ہے جیسے جوہری وار ہیڈز نہ ہوا دستی بم ہوا، اٹھایا اور دے مارا، مگر اسرائیل کی بات ہی گول کر جاتے ہیں۔ ضمناً بتاتا چلوں کہ اتوار کے روز ریڈیو ماسکو پر دیے گئے تبصرے میں جوہری وار ہیڈز کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے والوں میں انگلستان اور فرانس، نہ کرنے والوں میں چین، ہندوستان، پاکستان اور اسرائیل کا نام تھا لیکن سوموار کے روز بعینہ اس طرح کے تبصرے سے اسرائیل کا نام حذف کر دیا گیا تھا۔ کچھ سمجھے آپ؟ مغرب کے دوہرے معیار رہے تو شمالی کوریا تو ایک طرف شاید سری لنکا کو بھی جوہری تجربہ کرنا پڑے۔





Monday, June 1, 2009

پاکستان میں زرعی اصلاحات ۔ ایک تجزیہ


وجاہت مسعود
جاگیرداری کے عفریت نے ہماری معیشت، سیاست اور معاشرت کی تمام جہتوں میں پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ چنانچہ زرعی اراضی کی ملکیت کے موجودہ نمونوں میں بنیادی تبدیلی لائے بغیرہماری اجتماعی قسمت میں کوئی بامعنی تبدیلی ممکن نہیں۔ جدید معیشت کی بنیاد میں نجی ملکیت اور ذاتی منفعت جیسے تصورات کارفرما ہیں۔ واپڈا، ٹیلی کمیونیکیشن اور ریلوے جیسے سرکاری اداروں کی نجکاری کا بہت چرچا ہے البتہ ارباب بست و کشاد اس وضاحت کے مکلف نہیں کہ اس زرعی ملک میں جہاںزراعت سے وابستہ ہر پانچ میں سے چار افراد سرے سے بے زمین ہیں، کھلی منڈی کی معیشت کیسے متعارف ہوسکے گی؟ کیا شخصی منفعت کی مہیج سے معیشت کو مستفید کرنے کا استحقاق صرف سرمایہ داروں کو ہے، صدیوں سے پرائی زمینوں پر پسینہ بہانے والے ہاریوں کو نجی ملکیت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا؟ جمہوریت کے دعوے بجا مگر مشتبہ حربوں سے ہتھیائی لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک مٹھی بھر دیہہ خداں اور بالشت بھر زمین سے بھی محروم لاکھوں افتادگان خاک میں جمہوری مکالمہ کیسے ہوگا؟ جس ملک میں جاگیرداری اخلاقیات کی عقیم ٹہنیوں پر لاکھوں پوچ مقدمات کے کانٹے اگے ہیں وہاں کمپیوٹر کا انقلاب کیسے آئے گا؟ زرعی اصلاحات کے بغیر فتح دین کمہار اور چودھری ابن الوقت خاں کے مابین سیاسی، معاشی اور سماجی مساوات کی صورت کیا ہوگی؟ چوہدری گڑ شکر کا بیٹا پیدائشی وزیر سہی، مصلی اخلاص پورکے بچے کو بھی کتاب ملنی چاہیے۔ بیگم سو سو کا سیمینار سلامت مگر نور بی بی کے دوپٹے پر سے تھانہ محرر کا جوتا بھی ہٹانا چاہیے۔ پیر ٹنگ ٹگور شاہ کا آستانہ قندیلوں سے جگمگاتا رہے لیکن مرید نحیف و ضعیف الاعتقاد کے بے نور چراغوں کو بھی ضیا بخشی جائے۔سماجی ذمہ داری احسا س شرکت سے جنم لیتی ہے۔ ہماری معیشت کی بدحالی، سیاست کی خانماں بربادی اور معاشرت کی پسماندگی کا خاتمہ اسی صورت میںممکن ہو سکتا ہے کہ جو ہاتھ ہل کی ہتھی پر ہے وہی ہاتھ گندم کی بالی پر ہو۔ ہمارے اجتماعی جسد کا ننگ زرعی اصلاحات کی قباہی سے ڈھانپا جاسکتا ہے۔

1947ءمیں پاکستان کی معاشی بنیاد زراعت کے شعبے پر تھی۔ صنعتی ڈھانچے کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ سیاسی اداروں پر بھی جاگیردار چھائے ہوئے تھے۔ اس طبقے نے گزشتہ 62برس میں اپنی تمام تر توانائیاں جاگیرداری کے استحکام پر صرف کی ہیں جس کا منطقی نتیجہ یہی ہے کہ ہم قومی ترقی، عوامی خوشحالی اور ملکی اداروں کے استحکام میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ مفاد پرستی اور مٹھی بھر استحصالی ٹولے کی اجارہ داری برقرار رکھنے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ ملک پر غیر نمائندہ نظام حکومت مسلط رکھا جائے جو عوام کو جواب دہ نہ ہو، پسماندہ طبقات کی ترقی کا راستہ روک سکے اور کروڑوں شہریوں کو قومی مستقبل کی صورت گری میں اپنا کردار ادا کرنے سے محروم رکھے۔

پاکستان کے سترہ کروڑ عوام کے لیے زرعی ڈھانچے کی پسماندہ، استحصالی اور غیر مستحکم ساخت کا مسئلہ وہی اہمیت رکھتا ہے جو انقلاب فرانس کے وقت مطلق العنان بادشاہت کے سوال کو حاصل تھی۔ پاکستان کے زرعی ڈھانچے میں اصلاح کے بغیر ہمارے سیاسی، سماجی اور معاشی اداروں میں بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔

ہمارے زرعی ڈھانچے کی ساخت ہماری سیاسی، معاشی اور سماجی تاریخ سے پیوست ہے۔ پاکستان کا زرعی ڈھانچہ تفریق اور عدم مساوات پر مبنی ہے جس کی خاصیت براہ راست پیداواری عمل میں شریک کروڑوں افتادگان خاک اور ذرائع پیداوار (یعنی زمین اور سرمائے) پر قابض مراعات یافتہ ٹولے کے درمیان عدم مساوات ہے۔ زرعی شعبے میں استحصال اور امتیاز کا یہ نظام زرعی اصلاحات کی تین بڑی کوششوں یعنی1952ء، 1959ءاور 1972ءکی اصلاحات کے باوجود مستحکم ہوا ہے۔ سیاسی عوامل، منڈی کی قوتوں اور جدید ٹیکنالوجی نے استحصال کی جڑیں مزید مضبوط کی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں مغربی اِستعمار کے تسلط سے قبل زمین کسی کی نجی ملکیت نہ تھی۔ گاﺅں کی پنچایت ہر کسان کو اس کے خاندان کی ضرورت کے مطابق زمین مہیا کرنے، گاﺅں کے انتظامی امور کی دیکھ بھال اور دست کاروں کو رواج کے مطابق پیداوار کا مقررہ حصہ بطور مالیہ ادا کرنے کے فرائض انجام دیتی تھی۔ وسیع و عریض قطعات اراضی کو زیر کاشت لانے میں ملک کا کوئی قانون ، رواج، اخلاق یا مذہبی عقیدہ مانع نہیں تھا۔ پیداوار کا ایک حصہ کاشت کار کو ملتا تھا اور دوسرا مالیے کی شکل میں فرمانروا کا حق قرار پاتا تھا۔ عرب، تاتار، ترک اور منگول حکمرانوں کے ادوار میں یہ نظام بنیادی طور پر انہیں خطوط پر استوار رہا۔ ہندوﺅں کے عہد میں مالیے کی مقدار کل پیداوار کے بارہویں سے چھٹے حصے تک تھی جبکہ اکبر کے وزیر مال ٹوڈرمل نے کل پیداوار کا ایک تہائی بطور مالیہ وصول کرنا شروع کیا۔ چنانچہ مغربی استعمار پسندوں کی آمد سے قبل اس خطے کے باشندے بڑی بڑی جاگیروں پر مسلط موروثی ملکیت کے دعویدار جاگیرداروں کے وجود سے ناآشنا تھے۔ البتہ وفادار راجواڑوں، نوابوں خوانین، شاہ پرستوں، اعلیٰ حکومتوں ، افسروں، دیوانوں اور قبائلی سرداروں کا ایک طبقہ ضرو ر تھا جو تخت کے نمائندوں کی حیثیت سے علاقے کی حفاظت اور انتظام کرتا تھا۔ علاوہ ازیں یہی طبقہ کاشتکاروں سے مالیہ وصول کر کے نظم و نسق اور تعمیرات کے لیے درکارمنہا کر کے باقی مالیہ دارالحکومت روانہ کر دیتا تھا۔

تاہم انیسویں صدی کے وسط میں برصغیر پر مرکزی حکومت قائم کرنے والا فرنگی اپنے مقاصد میں واضح طور پر سابقہ حکمرانوں سے اختلاف رکھتا تھا۔ جدید تاجر ہونے کی حیثیت سے گورے صاحب کا بنیادی مقصد اپنے کارخانوں کے لیے کچا مال خریدنا، اپنی مصنوعات کے لیے منڈیاں حاصل کرنا اور مقامی وسائل کو ممکنہ حد تک غصب کرنا تھا۔ برصغیر کا مروجہ خود کفیل زرعی ڈھانچہ ان کے اس مقصد کی کامیابی میں حائل ہوا۔ چنانچہ انگریزوں نے اسے درہم برہم کر کے اپنے مفادات سے مطابقت رکھنے والا نو آبادیاتی نظام قائم کیا جس کی بنیادی خصوصیات درج ذیل تھیں۔

-1 مالیہ ادا کرنے کی ذمہ داری گاﺅں یا قبیلے کی بجائے امرا پر عائد کی گئی۔ زمین کو ذاتی ملکیت بنانے کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔

-2 قبل ازیں کل پیداوار کا ایک مقررہ حصہ مالیے کے طور پر وصول کیا جاتا تھا۔ نیز مالیہ عموماً جنس کی شکل میں ادا کیا جاتا تھا۔ انگریزی حکمرانوں نے رقبہ اور زمین کی زرخیزی کو مالیہ کی بنیاد بنایا نیز مالیہ بطور زر نقد ادا کرنا قانونی طور پر لازم قرار پایا۔ نقدی کی صورت میں مالیہ ادا نہ کرنے پر زمین ضبط کر لی جاتی تھی۔ سکہ رائج الوقت میں مالیہ ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے لاکھوں کسان راتوں رات قبائلی سرداروں اور سابق سرکاری افسروں کے مزارعے بن گئے۔

-3 زرعی پیداوار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے انگریزوں نے ریونیو کھاتے کی بنیاد رکھی۔ زمین کے ریکارڈ کا باقاعدہ اندراج ہونے لگا۔ مزید برآں زمین کی سرکاری یا غیر سرکاری بنیادوں پر تقسیم یا الاٹمنٹ ہونے لگی۔

-4 پٹے دار، مختار کار، پٹواری، نمبردار، مقدم اور ڈپٹی کمشنر جیسے بااختیار حکام نیز پولیس کی مدد سے فرمانبردار افراد کا ایک گروہ پیدا کیا گیا جو اپنے متعلقہ علاقوں میں سیاہ و سفید کا مالک قرار پایا۔ اس بھتے دار گروپ نے اپنے آقاﺅں کے مفادات کی پاسداری میں مادر وطن کے بیٹوں پر جو ظلم ڈھائے ان کی گواہی نامور مورخ ایڈ منڈ برک نے برطانوی پارلیمنٹ میں وائسرائے وارن ہیسٹنگر کے خلاف مقدمے میں تقریر کرتے ہوئے دی تھی۔

عوام کو نو آبادیاتی نظام کی زنجیروں میں جکڑنے اور اس نظام کو عوامی شورش سے محفوظ رکھنے کے لیے غیر ملکی حکمرانوں کو ہندوستانیوں کے ایک مختصر مگر مضبوط گروہ کی سرگرم حمایت درکار تھی چنانچہ اس ضمن میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا گیا۔

-i جنہوں نے نئے حکمرانوں کو ملک فتح کرنے میں مدد دی تھی۔

-ii جنہوں نے سرکش قبیلوں اور بغاوتوں کو کچلنے میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔

-iii جنہوں نے عوام کے خلاف حکومتی ہتھکنڈوں کو کامیاب بنانے میں ہاتھ بٹایا تھا۔

چنانچہ ان شرائط پر پورا اترنے والے راجے، نواب، قبائلی سردار، سابقہ سول اور فوجی حکام، پیر، سجادہ نشین، خدمت گار، جبلی وفادار اور عادی مجرم حکمرانوں کے سایہ عاطفت میں چلے آئے۔ ان قوم فروشوں کو نوازنے کے لیے چار طریقے اختراع کیے گئے۔

-1جاگیریں

(الف) ایسٹ انڈیا کمپنی نے ابتدائی طور پر بنگال میں اپنے کارندوں کے ذریعے مالیہ وصول کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی کے بعد ’دیوانی‘ نیلام کرنے کا طریقہ اختیار کیا ۔ نیلامی میں بولی دینے والے دیوان کہلاتے تھے۔ 1773ءمیں لارڈ کارنوالس کے ’بندوبست دیوانی‘ کے بعد یہی مالیہ وصول کرنے والے ایجنٹ (مستاجر) جاگیردار اور زمیندار کہلانے لگے۔ ان کے ساتھ مالیے کی رقم طے ہوتی تھی اور یہ مقررہ مالیے کا گیارہواں حصہ بطور حق خدمت اپنے لیے رکھنے کے حقدار تھے۔ قانونی طور پر یہ نام نہاد زمیندار زمین کے مالک نہیں تھے لیکن انھیں جن زمینوں کا مالیہ وصول کرنے پر مامور کیا گیا انہوں نے خود کو ان زمینوں کا مالک قرار دینا شروع کر دیا۔

(ب) جاگیروں کی دوسری شکل پنجاب، سندھ اور سرحد میں سامنے آئی۔ یہ علاقہ 1888ءتک لق و دق صحرا تھا۔ بارش کی سالانہ اوسط بمشکل 5سے 15انچ تھی۔ کھیتی باڑی کے قطعات کم تھے۔ زیادہ علاقہ چراگاہوں پر مشتمل تھا۔ اس خطے میں نہروں کی کھدائی کے بعد انگریزوں نے سارے علاقے کو بلا دعویٰ قرار دے کر اس پر قبضہ کر لیا۔ 25، 25 ایکڑ کا مربع بنایا اور اسے منظور نظر لوگوں میں بانٹ دیا۔ مزید نہروں کی کھدائی کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی ملکیت میں اضافہ ہوتا رہا۔

مارچ 1949ءمیں حکومت پنجاب کی طرف سے ملک فیروز خان نون کی سربراہی میں زرعی تحقیقاتی کمیٹی نے تسلیم کیا تھا کہ اس علاقہ میں شاید ہی کوئی بڑا زمیندار ہو جو اپنی مملوکہ زرعی اراضی پر اپنا قبضہ 1857ءسے قبل بھی ثابت کر سکے۔ ان طرہ پوشوں کی زمینداریاں فرنگی آقاﺅں کے لطف نظر کا قصہ ہیں ۔

-2مخصوص مراعات

مسلمہ ضمیر فروشوں کو مروجہ قوانین بالائے طاق رکھتے ہوئے مخصوص مراعات سے نوازا گیا۔ مثال کے طور پر پنجاب میں نوابوں اور ٹوانوں کو نجی نہریں جاری کرنے اور کاشتکاروں سے کل پیداوار کا ایک چوتھائی بطور آبیانہ وصول کرنے کی اجازت دی گئی۔ نیز تمام جاگیرداروں کو اپنے مزارعوں سے مختلف جاگیر شاہی ٹیکس مثلًاشلوار ٹیکس اور مونچھ ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دی گئی ۔اگر جاگیردار کو حج کا شوق چراتا تو اس کا خرچ بھی ”گنہگار“ مزارعوں کو اٹھانا پڑتا تھا۔ پنجاب اور سندھ کے کئی حصوں میں غریب مزارعے کی بیٹی اپنی شادی کی رات زمیندار کی حویلی میں اپنے والدین کی غربت کے تاوان کے طور پر گزار کر اپنے شوہر کے پاس پہنچتی تھی۔

-3خطابات اور سندیں

ابنائے وطن سے غداری اور فرنگی سے وفاداری کی یہ بامہر شہادتیں مقامی حکام سے مراعات کے حصول کا موثر ذریعہ قرار پائیں۔

-4انتظامی اختیارات

نمبرداری، ذیلداری، اور آنریری مجسٹریٹی جیسے عہدے ان نمک خواروں کے لیے مخصوص قرار پائے۔ نیز ان کے خواندہ بیٹوں اور بھتیجوں کو فوج، پولیس ، مال ، نہر اور دیگر سرکاری محکموںمیں اعلیٰ عہدوں پر ترجیح دی گئی۔ ایوب خان کے والد رسالدار میجر تھے۔ جنرل حبیب اللہ کے والد علی قلی خان افغانستان کے حکمران امان اللہ کے خلاف سازش میں کرنل لارنس کے رفیق سفر تھے۔

انگریز عہد میں سندھ کی زرعی صورت حال پنجاب کی نسبت زیادہ دگر گوں رہی۔ 1886ءمیں دیوانی عدالتوں کے معرض وجود میں آنے کے بعد دھڑا دھڑ مسلمان کاشتکاروں کے زیر قبضہ زرعی اراضی ہندو ساہوکاروں کے پاس جانے لگی۔ 1843ءمیں سندھ کی سو فیصد زرعی اراضی پر مسلمانوں کا قبضہ تھا جبکہ 1936ءمیں ایک تہائی سے بھی زیادہ زرعی رقبہ قرقیوں کی صورت میں ہندو ساہوکاروں کے پاس پہنچ چکا تھا۔ دوسری طرف 1901ءمیں قانون تحفظ اراضی پاس ہونے سے پنجاب میں کسی غیر کاشتکار کے لیے زرعی اراضی کا حصول ممکن نہ رہا۔ ادھر سندھ میں ناقص نظام آب پاشی کے باعث کمزور زرعی پیداوار کے پیش نظر انگریزوں نے دور رس منصوبے شروع کیے۔ 1923ءمیں سکھر بیراج کی تعمیر شروع ہوئی اور 1932ءمیں یہ منصوبہ مکمل ہونے پر 18357 کلو میٹر طویل نہریں جاری ہو گئیں۔ چنانچہ سندھ کے زیر کاشت رقبے میں 71گنا اضافہ ہوا۔ چھوٹے کاشتکاروں اور ہاریوں کی امید بندھی کہ زرعی خوشحالی شاید ان کے دروازوں پر دستک دے مگر ان کے دھان سوکھے ہی رہے۔ سندھ میں وسیع پیمانے پر غیر سندھیوں کی آمد شروع ہو گئی۔ دوسری طرف تنصیباب آب پاشی کے باعث سیم و تھور پھیلنے لگا۔ قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں زیر کاشت آنے والے یہ وسیع قطعات اراضی غیر سندھیوں اور سول و فوجی حکام میں تقسیم کیے گئے۔ سکھر بیراج سے سیراب ہونے والا کمانڈ ایریا بڑے زمینداروں کو عطا کیاگیا۔ اس پر شدید احتجاج کے نتیجے میں 1947ءمیں ہاری تحقیقاتی کمیٹی قائم ہوئی جس سے حسب منشا نتائج اور سفارشات کے حصول کی غرض سے کمیٹی کی ساخت میں بار بار رد و بدل کیا گیا۔ اس کے باوجود کمیٹی کے رکن مسعود کھدر پوش کا اختلافی نوٹ تاریخی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ہاری کمیٹی کی اصل رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ جاگیردار طبقہ نہایت فرشتہ صفت اور الہیہ صفات سے موصوف واقع ہوا ہے۔ البتہ ہاریوں کی شکایات ان کی اپنی بدنیتی اور شرارتی افتاد پر دلیل ہیں۔

دراصل گورنر سندھ غلام حسین ہدایت اللہ اور وزیر اعلیٰ خان بہادر ایوب کھوڑو اس کمیٹی کی کارروائی کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہاری کمیٹی میں ہاریوں کو نمائندگی دینے کی بجائے اس میں ایک اور بڑے زمیندار کو شامل کیا اور جب عوام نے مسعود کھدر پوش کے تحریر کردہ اختلافی نوٹ کی اشاعت کا مطالبہ کیا تو مولانا عبدالحامد بدایونی کی سربراہی میں16علما کے دستخطوں سے ایک پمفلٹ شائع کر کے اختلافی نوٹ کے مصنف پر اشتراکی رجحانات کا الزام لگایا گیا۔ مسعود کھدر پوش نے اس پمفلٹ کی اشاعت پر قانونی کارروائی کی تو وزیر اعظم لیاقت علی کے دفتر میں ان سے مقدمہ واپس لینے کی درخواست کی گئی۔ اس قدر تگ و دو کے بعد یہ نوٹ جب شائع ہوا تو مسلم لیگ کی حکومت نے عوامی دباﺅ پر اپریل 1948ءمیں میاں ممتاز دولتانہ کی سربراہی میں زرعی اصلاحات کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی نے بنیادی تبدیلیوں پرمبنی سفارشات مرتب کیں جن میں سے چند سفارشات ذیل میں بیان کی جا رہی ہیں۔

٭ تمام موروثی جاگیریں فی الفور ختم کر دی جائیں۔

٭ منسوخ جاگیروں کے مالکانہ حقوق مزارعوں کو منتقل کیے جائیں۔

٭ جاگیردارانہ ٹیکس اور واجبات ختم کیے جائیں۔

٭ زمینداری کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

پاکستان مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے ایک قرارداد کے ذریعے زرعی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کو مکمل طور پر تسلیم کر لیا ۔نیز مرکزی و صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ ان سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر چودھری خلیق الزمان نے تسلیم کیا کہ اختلافی نوٹ کی اشاعت سے اس قدر طوفان اٹھا تھا کہ اس قرارداد کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا تھا۔ اس قرارداد پر جاگیرداروں اور زمینداروں نے شدید مزاحمت کی۔ جس سے گھبرا کر مرکزی حکومت نے یہ کہتے ہوئے سپر ڈال دی کہ زراعت کا شعبہ بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ چنانچہ صوبائی حکومتیں زرعی اصلاحات پر عمل درآمد کرائیں۔

اس موقع پر مغربی پاکستان کا جاگیردار ٹولہ مطمئن تھا کہ کوئی صوبائی حکومت زرعی اصلاحات کے نفاذ کی حماقت نہیں کرے گی اور یہ قرارداد محض اشک شوئی تک محدود رہے گی۔ سندھ اور پنجاب کی حکومتیں بڑے بڑے زمینداروں کے قبضے میں تھیں۔ صوبہ سرحد میں قیوم خان کو اپنا اقتدار بچانے کے لیے خوانین کی حمایت درکار تھی۔ بلوچستان میں از کار رفتہ سرداری نظام قائم تھا جس کے مطابق سردار صدیوں سے پیداوار کا چھٹا حصہ وصول کرتے آ رہے تھے۔

حکومت پنجاب نے مارچ 1949ءمیں ملک فیروز خان نون کی صدارت میں ایک زرعی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔ اسی اثنا میں مشرقی پاکستان میں نورالامین وزارت نے 1951ءمیں ایک قانون منظور کیا جس کے تحت تمام جاگیرداریاں ختم کر کے خاندان کے لیے زرعی ملکیت کی حد 38ایکڑ مقرر کر دی گئی۔ اس سے مغربی پاکستان کے جاگیردار بری طرح سٹپٹا گئے اور انہوں نے زرعی اصلاحات کے خلاف منظم مہم شروع کر دی۔ جنوبی پنجاب کے زمیندار سید نو بہار شاہ کی قیادت میں انجمن تحفظ حقوق زمینداراں کے تحت الشریعہ قائم کی گئی۔ نوبزادہ نصرا اللہ خان انجمن کے نائب صدر مقرر ہوئے۔ مولانا مودودی اور دوسرے مذہبی انتہا پسندوں کو تھپکی دی گئی۔ دسمبر 1952ءمیں پنجاب لیگ کی مجلس عاملہ نے زرعی اصلاحات کے مخالف اراکین اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا۔ اس اجلاس میں سید نو بہار شاہ نے اپنی ٹوپی سر سے اتار کر ہوا میں لہراتے ہوئے اعلان کیا۔ "یہ ٹوپی میری ملکیت ہے اسے کوئی مجھ سے نہیں چھین سکتا اسی طرح زمینیں ہماری ملکیت ہیں جنہیں ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔‘ مشرقی پاکستان میں زرعی اصلاحات کے نفاذ سے مغربی حصے میں حکمران ٹولہ بدظن ہو گیا۔" اس ٹولے کو مشرقی پاکستان کے سیاسی و معاشی واقعات سے مستقبل میں اپنی مراعات پر ضرب پڑتی نظر آ رہی تھی۔ اس طرح سیاسی و معاشی سطح پر ملک کے دونوں حصوں میں بیگانگی بڑھنے لگی۔

بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی دباﺅ کے پیش نظر 1958ءمیں سندھ میں قانون مزارعت نافذ ہوا جس کے تحت ہاریوں اور مزارعوں سے بیگار اور نذرانے لینے کی ممانعت کی گئی۔ نیز جو مزارع مسلسل تین سال تک ایک ہی مالک کے کم از کم چار ایکڑ رقبے پر کاشت کرے، اس کے مستقل حقوق مزارعت بھی تسلیم کر لیے گئے۔ اس طرح پنجاب میں زرعی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اصلاحات نافذ ہوئیں۔ 1952ءکی ان اصلاحات کے بنیادی نکات بیان کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ پاکستان میں زرعی طبقات کی نوعیت پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ پاکستان کے زرعی شعبے میں پانچ طبقات موجود ہیں۔

-1زمیندار

یہ طبقہ وسیع قطعات اراضی پر قابض ہے جو اسے تقسیم سے قبل یا بعد میں نامعلوم خدمات کے صلے میں عطا کیے گئے ۔ یہ لوگ اپنی ساری زمین بٹائی پر بے زمین کسانوں کو دیتے ہیں۔ تمام تر زرعی مشقت بٹائی پر زمین لینے والا خاندان مہیا کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنے گماشتوں کی مدد سے حاکمیت کے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ بٹائی پر کاشت کرنے والے پیداوار سے متعلق امور میں فیصلہ کرنے کے اہل نہیں سمجھے جاتے۔ یہ لوگ کل زرعی رقبے کے 32فیصد سے زائد حصے پر قابض ہیں جبکہ تینوں صوبوں میں کل ملا کر ان کی تعداد زرعی آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

-2سرمایہ دار کاشتکار (امیر کسان)

سرمایہ دار کاشتکاروں کا مزروعہ رقبہ یا تو ان کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے یا پھر بڑے زمینداروں سے ٹھیکے پر لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے سرمائے کی بنیاد پر بے زمین محنت کشوں سے اجرت کی بنا پر کام لیتے ہیں۔ یہ لوگ مالکوں کی حیثیت سے پیداوار کی تقسیم، مزدوروں کی نگرانی اور جدید پیداواری طریقوں کی آزمائش جیسے امور کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اس طبقے میں منافع اور اجرت پیداوار کی تقسیم میں بنیادی عوامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کل زرعی آبادی میں ان کی تعداد 3 فیصد سے زائد نہیں ۔

-3غریب اور درمیانے کاشتکار

یہ طبقہ اپنی مزروعہ زمین کا کچھ حصہ ٹھیکے پر بھی لے سکتے ہیں یا کچھ حصہ ٹھیکے یا بٹائی پر دے سکتے ہیں تاہم یہ لوگ پیداوار کے لیے گھریلو محنت ہی پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں کی محنت ہتھیاتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کے لیے محنت کرتے ہیں۔

-4بٹائی پر کاشت کرنے والے کسان (مزارع)

یہ بے زمین کسان اپنی مزروعہ اراضی بٹائی پر لیتے ہیں اور زمیندار کو اس کا حصہ جنس کی صورت میں طے شدہ بنیاد پردیتے ہیں۔ بٹائی پر کاشت کرنے والے اجرت پر مزدور نہیں رکھتے اور گھریلو محنت پر انحصار کرتے ہیں۔ معمولی آمدنی کے لیے اپنی محنت فروخت کرنے والے یہ کسان زرعی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔

-5اجرت پر کام کرنے والے کھیت مزدور

یہ بے زمین کھیت مزدور عام طور پر امیر کسانوں یا سرمایہ دار کاشتکاروں کے ہاتھ اپنی محنت فروخت کر کے روزی کماتے ہیں۔ ان کو اجرت کا کچھ حصہ جنس اور کچھ حصہ نقد کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ انہیں زیادہ تر موسمی طور پر کام ملتا ہے اور یہ اپنی آمدنی میں زراعت کے علاوہ چھوٹی مزدوری کے ذریعے اضافہ کرتے ہیں۔

1952ءکی زرعی اصلاحات

مارچ 1949ءمیں ملک فیروز خان نون کی سربراہی میں قائم کمیٹی جاگیرداروں کے نمائندوں پر مشتمل تھی اور کمیٹی کا مقصد کسی بنیادی تبدیلی کی بجائے غیر موروثی مزارعین کو کسی قدر تحفظ فراہم کرنا اور بے دخلیوں کو روکنا تھا۔ 1952ءمیں پنجاب میں نافذ کردہ قانون مزارعت کے اہم نکات یہ تھے۔

-1 موروثی کاشتکاروں کو بھی حقوق ملکیت مل سکیں گے۔

-2 بٹائی میں مالک اراضی کا حصہ 58 فیصد کی بجائے 48 فیصد مقرر کیا گیا۔

-3 آئندہ کے لیے موروثی مزارعت پر پابندی عائد کر دی گئی۔

-4 نقدی کی صورت میں ملنے والی جاگیریں منسوخ کر دی گئیں تاہم قومی خدمات نیز مذہبی یا خیراتی اداروں کے لیے ملنے والی جاگیریں برقرار رکھی گئیں۔

-5 حکومت نجی نہروں کو اپنی ملکیت میں لے سکے گی۔

-6 سو ایکڑ سے زائد اراضی کے مالک کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ 58ایکڑ نہری یا 100ایکڑ بارانی زمین پر خود کاشت کرے۔

-7 آئندہ کے لیے جاگیر بخشی کا دستور ختم کر دیا گیا۔

-8 قبل ازیں مالک مزارع کو بلا جواز بے دخل کر سکتا تھا۔ اس قانون کے ذریعہ مزارع کی بے دخلی کو مشروط بنا دیا گیا۔ اس ضمن میں تین شرائط عائد کی گئیں۔

(الف) مزارع لگان ادا نہ کرے

(ب) مزارع زمین کاشت نہ کرے

(ج) مزارع علاقہ میں بالعموم کاشت ہونے والی فصل کاشت نہ کرے۔

1952ءکی اصلاحات میں جاگیروں کو بھی ختم کیا گیا۔ اس وقت جاگیر سے مراد ایسا رقبہ تھا جو سرکار نے مالیہ اور لگان کے بغیر دے رکھا تھا۔ علاوہ ازیں مالکوں کا ایسا رقبہ بھی جاگیر قرار پایا جس پر مالیہ ادا کرنے کی پابندی نہیں تھی۔

(جاری ہے)


courtesy: ہفت روزہ ہ’ہم شہری